سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر نے حکومت کو دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ خیبرپختونخوا آ کر جلسہ کرنا چاہے تو انہیں مکمل پروٹوکول فراہم کیا جائے گا، کیونکہ سیاسی سرگرمیاں ہر جماعت کا آئینی حق ہیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسد قیصر نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کہ اب تک صوبے میں دہشت گردی مکمل طور پر ختم کیوں نہیں ہو سکی، جس پر ایوان کو واضح جواب ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو تحریکِ انصاف سے کسی قسم کی شکایت یا دشمنی ہے تو وہ خیبرپختونخوا کی دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی رائے لے، تمام سیاسی قیادت کو ایک جگہ بٹھا کر حقائق معلوم کیے جائیں، کیونکہ یہ کہنا کہ ہم سنجیدہ نہیں ہیں، انسانی اور جمہوری رویہ نہیں ہو سکتا۔
اسد قیصر نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین پاکستان شہریوں اور سیاسی جماعتوں کو جلسے جلوس کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور اگر دیتا ہے تو پھر کسی جماعت کو اس حق سے محروم کیوں کیا جا رہا ہے۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ قومی جرگے میں شامل افراد کو بلا کر ان سے زمینی حقائق معلوم کیے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل اور مؤثر عملدرآمد کیا جائے، تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکے۔
انہوں نے کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پیش آنے والے مناظر انتہائی افسوسناک تھے، اور ایسے سانحات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔