روس کے مشرقی علاقے جزیرہ نما کامچاتکا میں شدید برف باری کے باعث گزشتہ 60 برس کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، جہاں غیر معمولی موسمی صورتحال نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلسل اور شدید برف باری کے نتیجے میں کئی میٹر بلند برفانی تودے بن گئے، جس کے باعث متعدد عمارتوں کے داخلی راستے مکمل طور پر بند ہو گئے جبکہ سڑکوں پر کھڑی اور چلتی گاڑیاں بھی برف میں دب کر رہ گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز عمارتوں کی چھتوں سے گرنے والی بھاری برف کے نیچے دب کر دو افراد جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد شہریوں کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جنوری کے پہلے 15 دنوں کے دوران بعض علاقوں میں دو میٹر سے زائد برف پڑ چکی ہے، جبکہ دسمبر کے مہینے میں مجموعی طور پر تقریباً 3.7 میٹر برفباری ریکارڈ کی گئی تھی، جو معمول سے کہیں زیادہ ہے۔
کامچاتکا سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں کئی میٹر برف کے نیچے دبی ہوئی ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں شہریوں کو اپنی رہائشی عمارتوں کے داخلی راستوں تک پہنچنے کے لیے خود برف ہٹا کر راستے بنانا پڑے۔
روسی میڈیا پر جاری ویڈیوز میں شہریوں کو ٹریفک سگنلز کے برابر اونچے برفانی تودوں پر چلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ سڑکوں کے اطراف کئی میٹر بلند برف کے ڈھیر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں، جو شدتِ موسم کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔