کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کے سانحے سے متعلق ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ ملبے کے نیچے دبے ممکنہ افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے ریسکیو اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور تمام تر اقدامات انتہائی احتیاط کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ نے بتایا کہ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق گل پلازہ سانحے میں 55 سے 60 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 48 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ 86 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ملبے کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن مسلسل جاری ہے، تاہم حفاظتی خدشات کے پیش نظر بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، کیونکہ مشینری کے استعمال سے عمارت کے مزید گرنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران ریسکیو اہلکار دوبارہ عمارت کے اندر داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری عمارت کو ایک بار پھر تفصیلی طور پر سرچ کیا جا رہا ہے، تاہم جہاں ملبہ موجود ہے وہاں فوری سرچ ممکن نہیں، اور ملبہ مکمل طور پر ہٹنے کے بعد ان حصوں میں بھی سرچنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔
ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے لاشوں اور اہلِ خانہ کے ڈی این اے سیمپلز لیے جا رہے ہیں، تاہم کچھ اعضا ایسے بھی ملے ہیں جن سے ڈی این اے حاصل کرنا تکنیکی طور پر مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی نے بتایا کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ واقعے کے وقت عمارت کے دروازے کیوں بند تھے، اس حوالے سے مختلف افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن عمارتوں میں فائر سیفٹی کے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے، انہیں نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں، اور اب تک فائر سیفٹی کی عدم موجودگی پر 6 عمارتوں کو نوٹس دیے جا چکے ہیں۔