کراچی میں گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے پلازہ کی بجلی بند کیے جانے سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مکمل طور پر احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا تھا تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
جائے حادثہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تنویر پاستا نے بتایا کہ گل پلازہ کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا ہوا تھا جبکہ مسجد کے ذریعے باہر نکلنے کے لیے دو متبادل راستے بھی دستیاب تھے، جن سے متعدد افراد نے محفوظ طور پر باہر نکلنے میں کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر گل پلازہ کی بجلی بروقت بند نہ کی جاتی تو جو لوگ عمارت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے، وہ بھی ممکنہ طور پر باہر نہ آ پاتے، اس لیے بجلی بند کرنے کا فیصلہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام نے جاں بحق افراد کے سیمپلز کا کیمیکل ایگزامینیشن کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ واقعے کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹس کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا عمارت کے اندر کسی قسم کے کیمیکلز موجود تھے یا نہیں، جبکہ تحقیقات میں آگ کے غیر معمولی طور پر تیزی سے پھیلنے کی وجوہات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سانحہ گل پلازہ میں اب تک 61 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 86 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔