سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہی لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں بھتے کے لیے لوگوں کو زندہ جلایا اور شہر کو بدامنی کی آگ میں دھکیلا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایک سیاسی رہنما کی پریس کانفرنس سنی جس میں اٹھارویں ترمیم کو خراب قرار دے کر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی، حالانکہ ایسے خیالات نے ماضی میں بھی شہر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیانات وہی لوگ دے رہے ہیں جن کے ہاتھ بھتے کے چکر میں بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان الزامات کا جواب انہی کے سابقہ بیانات اور حقائق کی روشنی میں دیں گے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ بلدیہ فیکٹری کو بھتے کے لیے آگ لگائی گئی، 12 مئی کو معصوم شہریوں کا قتل عام کیا گیا اور شہر کو یرغمال بنایا گیا، ایسے پس منظر کے بعد اس طرح کی باتیں زیب نہیں دیتیں۔
سینیئر وزیر نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹس کے مطابق عاشورہ کے بعد بولٹن مارکیٹ میں لگنے والی آگ کے ذریعے تاجروں کا کاروبار تباہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج گل پلازہ کے متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں دربدر ہیں، جبکہ بعض لوگ سیاسی بیانات میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال کی ماضی کی پریس کانفرنسز کے ویڈیو کلپس بھی میڈیا کو دکھائے۔
انہوں نے کہا کہ ان ویڈیوز میں خود مصطفیٰ کمال کے اپنے قائد خالد مقبول صدیقی اور اتحادی حکومت کے رہنماؤں سے متعلق بیانات موجود ہیں، اور یہ سب کے سامنے ہے کہ بطور میئر کراچی ان کا عوام کے ساتھ رویہ کیسا تھا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ان بیانات کا منہ توڑ جواب ان کے پاس موجود ہے، لیکن حکومت سیاسی بیان بازی کے بجائے متاثرہ لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص خود کو کراچی کا سب سے بڑا دعوے دار اور وفاقی وزیر صحت کہتا ہے، وہ اب تک جائے وقوع پر کیوں نہیں پہنچا اور متاثرین سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک انتہائی افسوسناک اور دردناک واقعہ ہے، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، اور اس پر پورا ملک غمزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی اور حکومت اس سانحے کے بعد ایک نکاتی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ ملبے سے لاشیں نکال کر لواحقین کے حوالے کی جا رہی ہیں، شناخت کا عمل جاری ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحے میں 86 افراد لاپتا تھے، جن میں سے دو اسپتال میں مل گئے، جبکہ باقی افراد کی تلاش بدستور جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے انہیں یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی، جس طرح ماضی میں عاشورہ کے بعد جلنے والی مارکیٹس اور ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین کی مدد کی گئی تھی، اسی طرح اس بار بھی حکومت پیچھے نہیں ہٹے گی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ جنوری 2024 میں فائر سیفٹی سے متعلق ایک رپورٹ تیار کی گئی تھی جو کمشنر کراچی کے ذریعے ڈپٹی کمشنر کو بھیجی گئی، اب تحقیقات جاری ہیں جن سے واضح ہو جائے گا کہ گل پلازہ کو نوٹس ملا تھا یا نہیں اور اس وقت نگراں حکومت موجود تھی۔ اگر کسی قسم کی کوتاہی ثابت ہوئی تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاجروں سے ملاقات کر کے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی گئی ہے، اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ باقی عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر سختی سے عمل کروایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اندازے کے مطابق ملک بھر میں 90 فیصد عمارتوں میں فائر ایگزٹ اور حفاظتی آلات موجود نہیں، تاہم نئی تعمیر ہونے والی عمارتوں میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
سندھ کے سینیئر وزیر نے کہا کہ متاثرہ دکانداروں کے لیے بلا سود قرض کی اسکیم پر بھی غور کیا جا رہا ہے، لیکن بعض سیاسی جماعتیں اس سنگین مسئلے پر بھی سیاست کر رہی ہیں، جو نہ صرف افسوسناک بلکہ قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای چالان جیسے اقدامات پر بھی سیاست کی گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان اقدامات سے کراچی میں ٹرانسپورٹ نظام میں بہتری آئی ہے۔