کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے نویں روز بھی سرچ اور ریسکیو آپریشن مسلسل جاری رہا، جبکہ اس المناک واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔
سانحہ گل پلازہ کو نو روز گزرنے کے باوجود عمارت میں سرچنگ اور ریسکیو کا عمل تاحال مکمل نہیں ہو سکا، مختلف سرکاری اداروں کی ٹیمیں اب بھی ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کے مطابق سرچ آپریشن تقریباً آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور کل عمارت کو باقاعدہ طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر 82 افراد لاپتا تھے، اگر اب بھی کسی کا کوئی پیارا لاپتا ہے تو وہ متعلقہ حکام سے رابطہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 لاپتا افراد ایسے تھے جن کے ورثا نے تاحال ڈی این اے نمونے فراہم نہیں کیے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق 73 جاں بحق افراد میں سے اب تک 23 کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔
جامعہ کراچی کی ڈی این اے لیبارٹری اب تک 16 افراد کی ڈی این اے رپورٹس جاری کر چکی ہے، جبکہ مجموعی طور پر سانحے میں جاں بحق 23 افراد کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ملبے تلے دبے مزید دو افراد کی انسانی باقیات بھی ملی ہیں، جنہیں ڈی این اے تجزیے کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم نے بھی پلازہ کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کیا، اربن سرچنگ آپریشن ٹیم نے مکمل ہونے والے مقامات پر مارکنگ کی، جبکہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کے آٹھ رکنی وفد نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی کے مطابق واقعے کی سنگینی کے پیش نظر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے بتایا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد گواہوں اور متعلقہ افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب لاپتا افراد کے اہلخانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں، کوئی اپنے بیٹے، کوئی بھتیجے اور کوئی بھائی کی خبر کا منتظر ہے۔ مختلف جامعات کی طالبات بھی گل پلازہ پہنچیں اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔