امریکی میڈیا نے ایران کے محکمہ صحت کے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ 8 اور 9 جنوری کو ہونے والے شدید پُرتشدد مظاہروں کے دوران ایران کی سڑکوں پر 30 ہزار سے زائد افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی وزارت صحت کے دو سینئر حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین پر شدید فائرنگ کی گئی، جس کے باعث لاشوں کو منتقل کرنے کے لیے دستیاب گاڑیاں کم پڑ گئیں۔
ایرانی محکمہ صحت کے حکام نے مزید بتایا کہ ریاست کے پاس لاشیں اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والے بیگز کا ذخیرہ بھی ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد 8 اور 9 جنوری کو لاشوں کی منتقلی کے لیے بڑے ٹریلرز کا سہارا لینا پڑا۔
دوسری جانب امریکا میں قائم ایک انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں اب تک 5 ہزار 459 اموات کی تصدیق کی ہے، جبکہ مزید 17 ہزار 31 افراد کی ہلاکت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کی قانونی طبی تنظیم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 117 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔