ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے پر ذمہ داران کے تعین کے لیے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹا جائے گا۔
ایم کیو ایم پاکستان نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے مطالبے پر قائم رہنے کا اعلان بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سانحہ گل پلازہ سے توجہ ہٹانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چاہے سندھ حکومت ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے لے یا ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے جائیں، پارٹی ہر صورت سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ایم کیو ایم پاکستان نے متاثرین گل پلازہ کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ پارٹی اجلاس میں احتجاج، اسمبلیوں میں مؤثر آواز بلند کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
اس سے قبل ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا تھا کہ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم کے وفاقی وزیروں اور رہنماؤں کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعد ازاں خالد مقبول، مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور انیس قائم خانی کو دوبارہ سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔