بھارتی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی امیگریشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کو عالمی سکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا جا رہا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق یہ رجحان نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران 23 ہزار 830 بھارتی شہری غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار ہوئے، جبکہ 2024 میں امریکی حکام نے 85 ہزار 119 بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا، جو اس مسئلے کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ناقص پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو قانونی راستے اختیار کرنے کے بجائے غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک جانے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں غیر قانونی امیگریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی جریدے کے مطابق گرفتار ہونے والے بیشتر بھارتی شہری ایک بہتر اور روشن مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے امریکا پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم اس عمل نے انہیں قانونی مشکلات اور خطرناک حالات سے دوچار کر دیا۔
عالمی سکیورٹی اداروں نے بھی بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگریوں کے استعمال اور منظم جرائم میں مبینہ ملوث ہونے کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اس مسئلے پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔