گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں موجود قیدی اپنی سزا مکمل کرنے کے بعد ہی آزاد ہوگا، اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا ایجنڈا صرف یہ دکھائی دیتا ہے کہ قیدی کو کس طرح آزاد کرایا جائے، تاہم قانون کے مطابق قیدی کو سزا پوری کرنا ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر قیدی کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے تو کسی مریض کا علاج کرنا کوئی غلط بات نہیں، کیونکہ جیل قوانین کے تحت ہر قیدی کو طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور اسی اصول پر عمل کیا گیا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے وادی تیراہ میں آپریشن سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ میں لوگ ہر سال سردیوں کے موسم میں نقل مکانی کرتے ہیں، جبکہ اس وقت تیراہ کے حوالے سے صرف لفظی جنگ جاری ہے اور کسی بڑے آپریشن کی بات درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ رواں سال صوبائی حکومت نے اس مد میں چار ارب روپے مختص کیے ہیں اور آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق 50 سے 60 فیصد افراد ممکنہ آپریشن کے خدشے کے باعث نقل مکانی کر گئے، جبکہ اس سے قبل سردیوں کے موسم میں بچوں کے ساتھ تقریباً 30 فیصد لوگ نقل مکانی کرتے تھے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف ہر جگہ آپریشن کیا جاتا ہے، چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک جہاں بھی دہشتگرد موجود ہوں گے وہاں کارروائی کی جائے گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دو پارٹیاں بنا لیں اور ایک کو تحریک انتشار کا نام دے دیں۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ کیا عید کے بعد 28ویں آئینی ترمیم آ رہی ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی نے جواب دیا کہ اگر عید کے بعد 28ویں ترمیم آتی ہے تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے گی۔