نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی نے اسلام آباد کی ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیا ہے۔ ملالہ یوسفزئی نے اس افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اپنے جاری کردہ پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ یہ نہایت تشویشناک امر ہے کہ لوگ عبادت گاہوں جیسے مقدس مقامات پر بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے عبادت گزاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کو ایک خوفناک اور بزدلانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف انسانیت بلکہ ہمارے ایمان، اخلاقی اقدار اور قومی یکجہتی کے خلاف ہیں، جن کے اثرات پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔
ملالہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ وہ دعا گو ہیں کہ پاکستان میں امن، برداشت اور تحفظ کی فضا بحال ہو اور عوام کو اس طرح کے وحشیانہ واقعات سے نجات مل سکے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے، جس کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پشاور میں حملہ آور کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں کارروائی کے دوران اس کے دو بھائیوں اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔