سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے وکلا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے فوری ملاقات کی استدعا مسترد کر دی ہے، جبکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ نوٹس جاری کیے بغیر اس نوعیت کا کوئی حکم دینا ممکن نہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے سینئر وکیل اور رہنما لطیف کھوسہ نے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست کی، تاہم چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ بغیر نوٹس جاری کیے عدالت اس معاملے پر کوئی حکم صادر نہیں کر سکتی۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق اعتراضات ابھی موجود ہیں اور سب سے پہلے ان قانونی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ عمران خان سے متعلق متعدد مقدمات مختلف عدالتوں میں پہلے ہی زیر التوا ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ملاقات سے متعلق کسی بھی قسم کا حکم جاری کرنے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہے اور نوٹس کے بغیر عدالت اس حوالے سے کوئی ہدایت نہیں دے سکتی۔
دریں اثنا سپریم کورٹ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی۔ عدالت کے مطابق چونکہ درخواست قابلِ سماعت نہیں رہی، اس لیے اسے خارج کیا جا رہا ہے۔