پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے نیٹ بلنگ سے متعلق حالیہ اعلان کو عوام کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا عوام سے بجلی 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدے گی، لیکن وہی بجلی حکومت 40 روپے فی یونٹ میں عوام کو فروخت کرے گی، جو سراسر ناانصافی ہے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ حکومت نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ سولر سسٹم لگانے والوں کو فائدہ پہنچایا جائے گا، جس پر لوگوں نے قرض لے کر اور اپنی جمع پونجی لگا کر لاکھوں روپے کے سولر پینلز نصب کیے، مگر اب پالیسی میں تبدیلی سے انہیں شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ حکومت عوام کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور نیپرا ایک آزاد ادارہ ہے جس نے یہ فیصلہ کیا ہے، تاہم ان کے مطابق نیپرا مکمل طور پر آزاد نہیں بلکہ وہی پالیسی اختیار کرتی ہے جس کی حکومت ہدایت دیتی ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ آئی پی پیز کو بجلی پیدا نہ کرنے کی صورت میں بھی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ سولر صارفین کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو قابلِ تشویش امر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیپرا کے چیئرمین کو سینیٹ میں طلب کیا جائے اور اگر واقعی حکومت اس فیصلے سے لاتعلق ہے تو پھر اسے قانون سازی کے ذریعے اس معاملے کو درست کرنا چاہیے۔