ارسندھ اسمبلی نے اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کی گئی تمام قراردادوں کو کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن انیل کمار کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ صوبے بھر میں شراب کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور شراب خانوں کے جاری کردہ تمام لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
قرارداد پر بحث کے دوران وزیر قانون و داخلہ سندھ ضیا لنجار نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی پابندی عائد کی گئی تو ایک بہت بڑا طبقہ اس سہولت سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج میرے دوست کچھ جذباتی نظر آ رہے ہیں، جس کے بعد ایوان نے قرارداد کو مسترد کر دیا۔
ایوان نے ایم کیو ایم کی رکن قراۃ العین خان کی جانب سے پیش کی گئی دو دیگر قراردادیں بھی منظور نہیں کیں۔ ان میں سے ایک قرارداد جنسی زیادتی اور بچوں کی ہراسانی کی روک تھام کے لیے لائف بیسڈ اسکل لرننگ متعارف کرانے سے متعلق تھی، جبکہ دوسری قرارداد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے سے متعلق تھی۔