رمضان المبارک کی آمد سے قبل بلوچستان میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اور غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث شہری شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ صوبے میں ایک کلو آٹے کی قیمت بڑھ کر 150 روپے تک پہنچ گئی ہے، جس نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
فلور ملز مالکان کے مطابق نئی گندم کی فصل مارکیٹ میں آنے تک شہریوں کو کم از کم دو ماہ تک مہنگا آٹا خریدنا پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 ہزار سے لے کر ساڑھے 3 ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جو حالیہ مہینوں کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
فلور ملز مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ اور پنجاب کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث بلوچستان میں گندم کی قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر آٹے کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے اور سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب محکمہ خوراک کی جانب سے گندم کی خریداری بند ہونے کی وجہ سے رمضان المبارک کے دوران آٹے کے ممکنہ بحران کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور قیمتوں میں فوری کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔