وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ راجن پور اور کچے کے علاقوں کو ڈاکوؤں سے مکمل طور پر پاک کر دیا گیا ہے اور وہاں ریاست کی رٹ بحال ہو چکی ہے۔
کچے میں جاری آپریشن سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں ڈاکوؤں نے ریاست کے اندر ایک ریاست قائم کر رکھی تھی اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ ان کے بقول لوگوں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا کیا جاتا تھا اور عام شہری عدم تحفظ کا شکار تھے۔
مریم نواز نے بتایا کہ انہیں آغاز میں کہا گیا تھا کہ کچے میں آپریشن انتہائی مشکل ہوگا، تاہم حکومت نے رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوران پاک فوج نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ایک ڈاکو کو ٹریک کیا گیا۔ آپریشن میں جدید ترین سرویلنس سسٹم، ہیومن انٹیلی جنس اور ڈرون کیمروں کا استعمال کیا گیا تاکہ ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ انہوں نے سندھ پولیس اور حکومتِ سندھ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس کارروائی میں مکمل تعاون فراہم کیا۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مطابق راجن پور اور کچے کے علاقے کو 100 فیصد کلیئر کر لیا گیا ہے اور حکومت کی عملداری بحال ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور جو علاقہ کبھی خوف کی علامت تھا، وہ اب قانون کی حکمرانی کا مظہر بن چکا ہے۔
مریم نواز نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق 500 سے زائد ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا ہے اور کچے کے جرائم پیشہ عناصر کے لیے اب کوئی محفوظ ٹھکانہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔