اسلام آباد: آئی ایم ایف جائزہ مشن کی آمد سے قبل ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس نے معاشی صورتحال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی آمد سے عین پہلے ملک میں غربت سے متعلق تشویشناک اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تازہ ترین تخمینوں کے مطابق گزشتہ چھ برسوں میں پاکستان میں غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کی 28.8 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جو معاشی مشکلات کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2018-19 میں ملک میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، تاہم گزشتہ چھ سالوں کے دوران اس میں تقریباً 6.9 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے مجموعی طور پر غربت کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
مالی سال 2024-25 کے حالیہ سروے کی بنیاد پر جاری تخمینوں کے مطابق اب ملک میں غربت کی شرح 28.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ صوبائی سطح پر بھی غربت کے گراف میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چھ سالوں کے دوران آئی ایم ایف کے تین استحکام پروگرامز، کووڈ 19 کے معاشی اثرات، عالمی اجناس کے سپر سائیکلز، مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ، کم جی ڈی پی شرح نمو، دو بڑے سیلاب اور گندم کی سپورٹ قیمتوں کو ختم کرنے جیسے عوامل نے مل کر غربت کی سطح میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔