ممکنہ توانائی بحران اور آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے توانائی بچت کے ایک جامع منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت درآمدی پیٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی طلب کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے تین مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے جس میں توانائی کی بچت، ایندھن کے استعمال میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار کو شامل کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے تاکہ عالمی مارکیٹ کے مطابق قیمتوں کو فوری طور پر ایڈجسٹ کیا جا سکے۔
منصوبے کے تحت سرکاری اجلاسوں کو زیادہ تر ورچوئل طریقے سے منعقد کیا جائے گا جبکہ ابتدائی مرحلے میں کووڈ 19 وبا کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار کی طرز پر تعطیلات کی تعداد بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ توانائی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ اقدامات سرکاری اداروں میں نافذ کیے جائیں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی اسکولوں، جامعات اور اسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس اور ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے تقریباً تین سے چار درجن تجاویز تیار کی گئی ہیں جو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ منظوری ملنے کے بعد ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کے مطابق خطے میں ابھرتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں فنانس ڈویژن میں منعقد ہوا، جس میں توانائی کی صورتحال اور ایندھن کے ذخائر کا جائزہ لیا گیا۔