امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ کے جلد خاتمے کے اعلان کے بعد عالمی معیشت پر مثبت اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور توانائی و اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
گزشتہ روز ایک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فوجی صلاحیت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا گیا ہے اور جنگ کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔
اس بیان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی اور تیل کی قیمتیں تقریباً 8 فیصد تک گر گئیں۔ برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت بھی 8 فیصد کمی کے بعد تقریباً 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔
عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں کمی کے بعد دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کا آغاز تیزی کے ساتھ ہوا جہاں 100 انڈیکس 9728 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 156209 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔
اسی دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایس سی 30 انڈیکس میں 6.7 فیصد اضافہ ہونے پر مارکیٹ کے قواعد کے مطابق کاروبار کو عارضی طور پر 45 منٹ کے لیے معطل کر دیا گیا۔ اس وقت 100 انڈیکس 9303 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 155783 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا جہاں ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج میں 1.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 6.2 فیصد اور جاپان کی اسٹاک مارکیٹ میں 3.2 فیصد تک تیزی ریکارڈ کی گئی۔