سندھ حکومت نے فوری طور پر چار روزہ ورک ویک نافذ کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے، جس کے تحت سرکاری دفاتر اب پیر سے جمعرات تک کھلے رہیں گے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہوگی۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کفایت شعاری اور توانائی کے مؤثر استعمال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے جبکہ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو دو ماہ کے لیے بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر جون تک پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
حکومت نے مزید ہدایت کی ہے کہ سرکاری تقریبات، ڈنر اور افطار پارٹیوں کے انعقاد پر پابندی ہوگی جبکہ تمام سرکاری اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں گے تاکہ غیر ضروری اخراجات اور نقل و حرکت کو کم کیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزراء آئندہ تین ماہ تک اپنی تنخواہیں اور مراعات نہیں لیں گے جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران سے دو دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
حکومت نے نجی شعبے کے لیے بھی چار روزہ ورک ویک نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ اداروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے 50 فیصد ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی سہولت فراہم کریں تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
تعلیمی اداروں کے حوالے سے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں 16 سے 31 مارچ تک اسپرنگ تعطیلات ہوں گی جبکہ کالجوں اور جامعات میں تمام کلاسز سو فیصد آن لائن منعقد کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ شادی کی تقریبات کے لیے بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کے تحت مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود ہوگی اور تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔