پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان موجودہ مالی سال کے لیے نظرثانی شدہ معاشی اور مالیاتی فریم ورک پر اتفاق رائے تقریباً طے پا گیا ہے، جس کے تحت ملکی مالیاتی اہداف میں بعض اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
مجوزہ فریم ورک کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کر کے جون 2026 تک 134.5 کھرب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے تاکہ معاشی حالات کے مطابق مالیاتی اہداف کو حقیقت پسندانہ بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کے لیے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں، جن میں مختلف معاشی اور مالیاتی امور پر تفصیلی مشاورت کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو مالی سال 2025-26 کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ جی ڈی پی کے 11 فیصد کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کا ہدف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق موجودہ مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ کے دوران نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں ٹیکس وصولیوں میں 428 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے مالیاتی اہداف کے حصول کو مزید چیلنج بنا دیا ہے۔