وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کے بیٹے کی گفتگو کو وفاقی حکومت نے بلاوجہ متنازع بنا دیا، حالانکہ یہ ایک بیٹے کے اپنے والد کے لیے جذبات کا اظہار تھا۔
خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کا باقاعدہ اردو ترجمہ کروایا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس بیان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ صرف ذاتی نوعیت کے احساسات تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بیٹے کی جانب سے اپنے والد کے لیے تشویش کا اظہار فطری امر ہے، تاہم اس بیان کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو حقائق کے برعکس ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جی ایس پی پلس معاہدے کی خلاف ورزی دراصل وفاقی حکومت خود کر رہی ہے، اور اگر ملکی صنعتیں بہتر انداز میں کام کر رہی ہوتیں تو تجارتی خسارے میں کمی آ سکتی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی پالیسیوں کے باعث کسان، طلبہ اور عام شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی صحت کے مسائل کا سامنا ہے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے، جس پر تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے خلاف سازش وفاقی حکومت کی جانب سے کی جا رہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں درختوں کی تعداد ضرورت سے زیادہ بڑھائی گئی ہے، اس کے باوجود وفاقی سطح پر ماحولیاتی پالیسیوں میں خامیاں موجود ہیں۔