آسٹریلیا نے اپنی دفاعی قیادت میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک تاریخی اقدام اٹھایا ہے، جس کے تحت پہلی بار ایک خاتون جنرل کو فوج کی سربراہ مقرر کیا جا رہا ہے، اور اس پیش رفت کو ملکی دفاعی نظام میں ایک اہم اور نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سوسن کوائل، جو اس وقت جوائنٹ کیپبلٹیز کی سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جولائی میں آرمی چیف کا عہدہ سنبھالیں گی، اور اس طرح وہ آسٹریلیا کی تاریخ میں اس اہم منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون بن جائیں گی۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس فیصلے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جولائی سے آسٹریلوی فوج کو اپنی تاریخ کی پہلی خاتون سربراہ میسر ہو گی، اور یہ تقرری ملک کے دفاعی نظام میں ایک نئی روایت کے آغاز کی نمائندگی کرتی ہے، جو مستقبل میں مزید مثبت تبدیلیوں کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
55 سالہ سوسن کوائل نے 1987 میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی، اور اپنے طویل پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ کئی اہم کمانڈ عہدوں پر فائز رہی ہیں، تاہم اب وہ آسٹریلوی فوج کی کسی بھی شاخ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون بننے جا رہی ہیں، اور ان کی یہ تعیناتی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فوج میں خواتین افسران کی تعداد بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت آسٹریلوی ڈیفنس فورس میں خواتین کا مجموعی تناسب تقریباً 21 فیصد ہے، جبکہ اعلیٰ قیادت میں ان کی نمائندگی ساڑھے 18 فیصد کے قریب ہے، اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک اس شرح کو بڑھا کر 25 فیصد تک لے جایا جائے تاکہ صنفی توازن کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔