وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت جاری ای سی سی اجلاس میں اسٹیل مل کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیرخزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا خصوصی اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں پاکستان اسٹیل ملز کو چلانے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جب کہ ای سی سی پاکستان اسٹیل ملز کو از سر نو چلانے کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز کو پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت چلانے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا جب کہ ای سی اجلاس میں آج روسی اور چینی کمپنیوں کی طرف سے اسٹیل ملز کو چلانے کے حوالے سے پیشکش کا بھی جائزہ کیا جائے گا۔ 3 چینی اور 3 روسی کمپنیوں نے اسٹیل مل چلانے کی پیشکش کر رکھی ہے۔
اسٹیل مل کو چلانے کے لئے کمیٹی کی رپورٹ بھی آج ای سی سی اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
پاکستان اسٹیل مل کے مستقبل کا فیصلہ آج ہی کیا جائے گا.
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان اسٹیل مل کی بحالی پر ماہرین کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی جب کہ ماہرین کی کمیٹی کے سربراہ خالد منصور اور دیگر حکام کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔ ماہرین کی کمیٹی نے 3 تجاویز پر غور کر رکھا ہے۔
ماہرین کے تین تجاویز میں سے پہلی تجویز کہ اسٹیل مل کو حکومت خود چلا سکتی ہے جب کہ دوسری تجویز یہ ہے کہ اسٹیل مل کو لیز پر دے دیا جائے اور تیسری یہ کہ اسٹیل مل کی نجکاری کر دی جائے۔
ای سی سی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات کل کابینہ اجلاس میں پیش کرے گی اور کابینہ پھر موجودہ صورتحال پر اسٹیل مل کا فیصلہ کرے گی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں طور خم جلال آباد روڈ کے 50 کروڑ روپے واپس کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔