بھارت کی مجموعی آبادی میں برہمن برادری کا حصہ محض پانچ فیصد کے قریب ہے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے ہمیشہ اقتدار اور فیصلہ سازی کے بڑے مراکز پر غیر متناسب کنٹرول قائم رکھا ہے۔
وزیراعظم اور صدر جیسے اعلیٰ سیاسی مناصب سے لے کر سول سروس، عدلیہ اور سفارت کاری کے کلیدی اداروں تک، ہر جگہ برہمنوں کی بالادستی نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ صورتحال اس تضاد کو ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ آبادی میں ان کی تعداد نہایت محدود ہے، مگر طاقت اور اثرورسوخ کے اہم ترین مراکز پر ان کی گرفت مسلسل مضبوط رہی ہے۔
اس حوالے سے ایک انفوگرافک واضح طور پر دکھاتی ہے کہ برہمن برادری کی آبادی میں معمولی نمائندگی اور ریاستی اداروں میں ان کے غالب اثر کے درمیان کتنا بڑا فرق موجود ہے۔ یہ رجحان ماہرین اور ناقدین کی اس رائے کو تقویت دیتا ہے جسے “برہمنوکریسی” کہا جاتا ہے، یعنی ایسا ڈھانچہ جس میں جمہوری نمائندگی ذات پات کے پرانے مراعات یافتہ نظام کے پیچھے دب کر رہ جاتی ہے۔