اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید احتجاج اور پارلیمانی ردِعمل کے بعد وفاقی حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز سے متعلق ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد سیاسی کشیدگی میں وقتی طور پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کے بغیر اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا، جسے حکومتی اقدام کے خلاف سخت احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، تاکہ آرڈیننس کے اجرا اور آئینی تقاضوں کی مبینہ خلاف ورزی پر مشاورت کی جا سکے۔
پیپلز پارٹی کے اس واضح مؤقف اور پارلیمانی دباؤ کے بعد حکومت نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 89 کی شق 2 کے تحت آرڈیننس واپس لینے کی باضابطہ ایڈوائس جاری کی گئی، جس کے بعد یہ آرڈیننس غیر مؤثر ہو گیا۔