قومی اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوگیا۔ علی محمد خان کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ایک دوسرے کیخلاف شدید نعرے بازی کی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو مائیک بند ہونے کے باوجود اپنی نشست پر کھڑے ہوکر تقریر کرتے رہے۔ ڈپٹی اسپیکر اراکین کو خاموش رہنے اور تحمل کامظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کرلیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر ہنگامہ آرائی کی نذر۔ ڈپٹی اسپیکر اراکین کو خاموش رہنے اور تحمل کامظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ علی محمد خان منسٹر آف اسٹیٹ فار پارلیمنٹری افیئرز علی محمد خان نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جو پاکستان کی جڑیں کاٹے گا ہم اس کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں گے۔ پی ٹی ایم کے جلسوں میں پاکستانی پرچم لانے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ پاکستان اور پاکستانی پرچم کیخلاف بات کیوں کی جاتی ہے۔ ایک رکن قومی اسمبلی کی حرکت کی وجہ سے بے گناہوں کی لاشیں گریں۔ ان اراکین قومی اسمبلی سے یہ سوالات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کو پاکستان میں رہنے کی اجازت نہیں جو دوقومی نظریئے کو نہیں مانتا۔
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان کے مہاجرین کو بھائی سمجھ کر پاکستان میں 40 سال برداشت کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کیلئے اتنی بڑی قربانی کیا افغانستان بھی دے گا؟ ہم قربانی دے رہے ہیں مگر ہمارے بھائی طاہر داوڑ کی لاش افغانستان سے ملی،ایسا کیوں ہوا؟
علی محمد خان کی تقریر کے دوران حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے ایک دوسرے کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو مائیک بند ہونے کے باوجود اپنی نشست پر کھڑے ہوکر تقریر کرتے رہے۔ اپوزیشن اراکین نے اسپیکر کے ڈائس کا بھی گھیراؤ کیا