کراچی: وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم نے آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے وفد کو مذاکرات کے لیے بلا لیا ہے۔
آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے وفد کو پیر کے دن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے بلایا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مذاکرات میں ایڈیشنل انکم ٹیکس، صوبائی سروسزسیلز ٹیکس اورٹول ٹیکس میں اضافے پربات ہوگی۔
ہونے والے مذاکرات میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پرعمل درآمد اور کمرشل لوڈنگ پرپابندی بھی زیر غور آئے گی۔
گزشتہ روز خبر دی تھی کہ آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز نے آج سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشنز کا مؤقف تھا کہ آج بروز جمعرات سے ملک بھر میں تیل کی ترسیل مکمل طور پر بند کی جا رہی ہے۔
صدر آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدرعابد آفریدی نے اس ضمن میں بتایا تھا کہ ہمارے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں اس لیے ملک بھر میں تیل کی ترسیل غیر معینہ مدت کے لیے بند کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہوائی جہازوں، پیٹرول پمپس سمیت کسی بھی شعبے کو تیل کی سپلائی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس میں اضافہ کسی صورت منظور نہیں ہے۔
عابد آفریدی نے مطالبہ کیا کہ کورونا صورتحال میں انکم ٹیکس کو 3 فیصد کر دیا ہے جسے 2 فیصد پر برقرار کیا جائے۔ صوبائی سروس اور ٹول ٹیکسز کو فی الفور ختم کیا جائے۔