آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ میں ثبوت کے ساتھ بات کروں گا، میں اور میرے جوان تکلیف میں ہیں، گزارش ہے کہ ہماری تکلیف میں اضافہ نہ کیا جائے، وردی اتاریں تو ہمارے بھی وہی معمول ہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم بے حس ہیں، ہم عزت دار لوگ ہیں اور دکھ میں ہیں جن کا مرہم چاہیئے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ گزشتہ 3 دن میں شاید 3 گھنٹے سویا کیونکہ کام زیادہ تھے، ہم بھی انسان ہیں،اس ملک کے شہری ہیں، اس غم کا اظہار اپنے لوگوں سے کر چلا ہوں ہم نے آواز بلند کی ہے کہ ہم ایک ایک شہید کا بدلہ لین گے، قربانیاں رائیگاں نہیں ہونے دیں گے، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے نزدیک ہیں جو اتنی زیادہ شہادتوں کی وجہ بنا اور کے پی کا امن خراب کیا۔
معظم جاہ انصاری نے کہا کہ میرے بچوں کو احتجاج پر اکسانا میری تکلیف میں اضافہ کررہا ہے، مجھے میرے لوگوں کو ڈیل کرنے دیں ، مجھ سے زیادہ انہیں کوئی نہیں جانتا، 34 سال وردی میں گزار دیے میرے جوانوں کے غم میں اضافہ کرنا، انہیں گمراہ کرنا ، سڑکوں پر لانا کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا، ڈرون حملے کی سازش کی گئی، میڈیا نے دیکھا مسجد کی چھت زمین پر گری ہے۔