سول اسپتال کراچی میں ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ پیش آیا، جہاں آپریشن تھیٹر کمپلیکس کی لفٹ میں ایک 10 سالہ معصوم بچے کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق، درندہ صفت لفٹ آپریٹر نے کم عمر بچے کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے اس کی معصومیت کو مجروح کیا۔
واقعے کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ بچے کے والد رشید احمد، جو پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں، نے پولیس کو بتایا کہ ان کی اہلیہ ارسا 13 روز سے سول ہسپتال کے میڈیکل وارڈ 2 میں زیر علاج ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ ہسپتال میں موجود تھے۔ ان کا 9 سے 10 سالہ بیٹا ارمان بھی ان کے ساتھ تھا۔
7 جولائی کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے، بچے نے اپنے والد کو بتایا کہ لفٹ آپریٹر نے اسے OT کمپلیکس کی لفٹ میں تیسرے فلور پر لے جا کر نہایت شرمناک حرکت کا ارتکاب کیا۔ واقعے کے بعد ملزم نے بچے کو 100 روپے دے کر دھمکایا کہ وہ کسی کو کچھ نہ بتائے۔ تاہم، بچے نے ہمت کرکے اپنے والد کو سارا واقعہ سنایا۔
والد نے جب ملزم عبدالواحید سے اس بارے میں بات کی تو وہ مشتعل ہو گیا۔ ہسپتال میں موجود دیگر افراد اور سیکورٹی گارڈز نے بھی مدد کی اور ملزم کو پکڑ کر مارا پیٹا۔ اسی دوران، سب انسپکٹر انور بلوچ موقع پر پہنچے، جنہیں تمام واقعہ تفصیل سے بتایا گیا۔ پولیس نے فوری طور پر ملزم کو گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے گندے ہرے رنگ کے کپڑے بھی بطور ثبوت ضبط کر لیے گئے۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی بچے کے ساتھ بدفعلی کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس نے ملزم عبدالواحید کے خلاف کم عمر بچے سے بدفعلی کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔