اندرونِ سندھ میں بجلی کا بریک ڈاؤن چوتھے روز بھی جاری ہے، جبکہ حکام کے مطابق 132 کے وی ہائی ٹینشن لائن کے 12 ٹاورز گرنے سے حیسکو کو 10 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کے ترجمان کے مطابق پیر کے روز بارش اور آندھی کے باعث 12 ہائی ٹینشن ٹاورز گر گئے، جس کے بعد میرپورخاص، ٹنڈواللہ یار، سلطان آباد، شیخ بھرکیو اور عمرکوٹ سمیت سات گرڈ اسٹیشنز کو متبادل ذرائع سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد سے میرپورخاص تک ڈبل سرکٹ لائن کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے 200 افراد پر مشتمل 6 تکنیکی ٹیمیں دن رات مصروف عمل ہیں۔
حیسکو ترجمان کے مطابق اُمید ہے کہ 20 جولائی، بروز اتوار تک تمام متاثرہ ٹاورز کی بحالی مکمل کر کے ڈبل سرکٹ لائن بحال کر دی جائے گی۔
دوسری جانب، متاثرہ علاقوں کے صارفین نے شکایت کی ہے کہ متبادل ذرائع سے فراہم کی جانے والی بجلی میں وولٹیج انتہائی کم ہے، جس کے باعث برقی آلات کام نہیں کر رہے اور ان کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔