بھارت میں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران ریاست راجستھان کے شہر جودھپور میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں وزیراعلیٰ بھجن لال شرما کے قافلے کے پروٹوکول کے باعث ٹریفک روٹ تبدیل کیا گیا۔ اس دوران ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل پر سوار تین طالب علموں کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں 13 سالہ طالب علم برکت اللّٰہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
غیر ملکی میڈیا ’دی فری پریس جرنل‘ کے مطابق یہ حادثہ ایئرپورٹ تھانہ کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب طالب علم برکت اللّٰہ خان اسٹیڈیم میں یوم آزادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آیا ہوا تھا، اور وزیراعلیٰ کا قافلہ شہید سمارک کی طرف جا رہا تھا۔ اچانک ایک گاڑی نے ان طلبہ کو ٹکر ماری جس کے نتیجے میں برکت اللّٰہ کی موقع پر موت واقع ہوئی جبکہ اس کے ساتھی پردیپ اور مہاویر شدید زخمی ہوگئے۔
جاں بحق طالب علم کی بہن کا بیان
جاں بحق بچے کی بہن کومل نے میڈیا کو بتایا کہ جب وہ جائے حادثہ پر پہنچیں تو بھائی کی لاش سڑک پر پڑی ہوئی تھی جبکہ اس کے دونوں دوست زخمی حالت میں تڑپ رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے نہ صرف سرد مہری کا مظاہرہ کیا بلکہ ان کی ایک بھی فریاد پر کان نہ دھرا۔
پولیس کی ابتدائی رپورٹ
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کی ابتدائی رپورٹ میں یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حادثہ کرنے والی گاڑی وزیر اعلیٰ کے قافلے کی تھی، بجری سے بھرا ہوا ڈمپر تھا یا پھر کوئی بس۔ اس ابہام نے متاثرہ خاندان کے غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔