پاکستان کے مختلف حصوں میں مون سون کے نئے اسپیل کے آغاز کے بعد شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کراچی اور سندھ کے کئی اضلاع میں موسلا دھار بارشوں نے معمولات زندگی کو متاثر کردیا جبکہ بلوچستان میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی اور جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
شہر قائد میں منگل کی صبح مختلف علاقوں میں بارش کے بعد شدید حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ گلشن حدید، شاہ لطیف ٹاؤن، لانڈھی، کورنگی، ڈیفنس، کلفٹن، شاہراہ فیصل، گلشن اقبال، گلستان جوہر، یونیورسٹی روڈ اور دیگر علاقوں میں بارش کے باعث سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں۔ یونیورسٹی روڈ پر نیوٹاؤن پولیس اسٹیشن کے اطراف پانی فٹ پاتھ تک بھر گیا جبکہ جیل چورنگی تا پیپلز چورنگی سڑک پانی میں ڈوبنے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔
ادھر محکمہ موسمیات نے سندھ کے دادو، بدین، حیدرآباد، شکارپور، کشمور، شہید بینظیر آباد، سانگھڑ، تھرپارکر، نگرپارکر، عمرکوٹ، مٹھی، سکھر اور لاڑکانہ سمیت مختلف شہروں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
بلوچستان میں بارشوں کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی۔ ضلع کچھی میں موسلا دھار بارش کے باعث کوئٹہ-سبی شاہراہ بی بی نانی کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کو سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ہرنائی اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش جاری ہے، ندی نالوں میں سیلابی ریلوں کے خطرے کے پیش نظر تمام محکموں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں 13 خواتین اور 4 بچے شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اموات کرنٹ لگنے، ڈیم میں ڈوبنے، چھت گرنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے واقعات میں ہوئیں۔ بارشوں کے دوران 83 مکانات کو نقصان پہنچا، 357 سولر پینل تباہ ہوگئے جبکہ چار سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان ہوا۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی بارشوں اور سیلاب کے باعث تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ بونیر میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضوں کی ادائیگی شروع کردی گئی ہے، فی کس 20 لاکھ روپے دیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب فوج اور فرنٹیئر کور کی ریسکیو ٹیموں نے صوابی، شانگلہ، بونیر اور سوات کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، طبی کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور راشن سمیت ضروری اشیا متاثرہ خاندانوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔
عالمی برادری نے بھی پاکستان میں مون سون بارشوں اور حالیہ سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ امریکا، چین، سعودی عرب اور ایران کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کی گئی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ اگر پاکستان مدد کی
درخواست کرے گا تو عالمی ادارہ فوری تعاون فراہم کرے گا۔
![]()