پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور پارلیمنٹ کے باہر اپنا الگ علامتی اجلاس منعقد کیا۔
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم سیلاب متاثرین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، لیکن ہمارے خلاف ہونے والے ظلم و زیادتی کے سبب ہم اس ایوان سے واک آؤٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس اعلان کے بعد تحریک انصاف کے اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس موقع پر کہا کہ اجلاس میں سیلاب متاثرین پر بحث ہو رہی تھی، ایسے ارکان جن کے علاقے زیر آب آئے ہیں، انہیں اس موضوع پر بات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے رکن اسمبلی اقبال آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے علاقے میں بھی تباہی ہوئی ہے، کم از کم اس پر اظہار خیال کرکے جاتے۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے باہر پارلیمنٹ کے سامنے اپنی “عوامی اسمبلی” لگا لی، جس کی صدارت اسد قیصر نے کی۔ اس دوران اراکین اسمبلی نے پارٹی بانی کی رہائی کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ علامتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمیں پارلیمان میں نمائندگی کا حق نہیں دیا گیا، اسی لیے ہم نے عوامی اسمبلی قائم کی ہے۔
دوسری جانب ایوان میں نور عالم خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی کی کوئی نہیں سنتا، خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعت حکومت میں بیٹھی ہے، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو این او سیز کس نے دیے؟ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا 12 افراد کو بھی نہ بچا سکی، ایسے میں ان کا کردار کیا ہے؟
وزیر ریلوے حنیف عباسی نے خطاب میں کہا کہ ہمارے نظام کو ہم “ہائبرڈ” کہتے ہیں، اگر ایسا ہی ہے تو بہتر ہے کہ ہم حکومتی بنچز چھوڑ کر اپوزیشن میں بیٹھ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا چین میں استقبال شاندار اور ان کی خارجہ پالیسی بہترین ہے۔
سائرہ افضل تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ضلع حافظ آباد دریائے چناب کے کنارے واقع ہے جہاں حالیہ سیلاب سے سینکڑوں دیہات زیر آب آگئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے مزید تباہی کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں فوری طور پر نکاسی آب اور حفاظتی اقدامات پر کام تیز کرنا ہوگا۔