اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس آج ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور انسانی المیے کے تناظر میں انتہائی جذباتی اور کشمکش کی کیفیت میں مکمل ہوا۔ اراکین اسمبلی نے یک زبان ہو کر دریاؤں کے بیڈز پر غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تعمیر اور جنگلات کی بے رحمانہ کٹائی پر فوری اور سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا، جو موجودہ سیلابی صورتحال کی ایک بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس کا باقاعدہ ایجنڈا معطل کر دیا گیا، تاکہ سیلاب سے متاثرہ عوام کی حالت زار پر فوری توجہ مرکوز کی جا سکے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے پنجاب کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ “نظام ظلم اور جبر پر چل رہا ہے،” اور ان کی جماعت نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
خواتین اراکین اسمبلی کی آوازوں میں خاصی گھمبیرتا محسوس ہو رہی تھی۔ رکن اسمبلی سائرہ افضل تارڑ نے اپنے حلقہ انتخاب کے مکینوں کی تکلیف بیان کرتے ہوئے کہا کہ چناب ندی کے کنارے آباد ان کے علاقے میں تاریخ میں پہلی بار اتنا تباہ کن سیلاب آیا ہے، جس نے مکانات اور انفراسٹرکچر کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر آنے والے دنوں میں 22 فیصد زیادہ بارشوں کے امکان ہیں۔
رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے ایک انتہائی اہم نکتہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ غیرقانونی تعمیرات کو روکنے اور شجرکاری کے منصوبوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ایسی ہی آفات کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دریاؤں کے کنارے بنائی گئی تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز کا ایک خودمختار کمیٹی تشکیل دے کر فوری جائزہ لیا جائے اور اس معاملے پر سخت ترین قوانین بنائے جائیں۔
ایوان میں تنقید کا نشانہ بیوروکریسی کو بھی بنایا گیا۔ رکن اسمبلی نور عالم خان نے سوال اٹھایا کہ آخر کس نے ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کو دریاؤں پر قبضہ کرنے اور تعمیرات کی اجازت دی؟ ان کا کہنا تھا کہ “اصل قصوروار بیوروکریسی ہے، جنہوں نے مالی مفاد کے تحت این او سی جاری کیے۔
” اس پر وفاقی وزیر حنیف عباسی نے جوابی خطاب میں بیوروکریسی کو یکطرفہ مورد الزام ٹھہرانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں بیوروکریسی کو گالم گلوچ کرنے کا بہت شوق ہے، حالانکہ ہم خود اس نظام کا حصہ رہے ہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کی دفاع اور معیشت مضبوط ہاتھوں میں ہے اور تعمیراتی معیارات پر سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو نے ایوان کو یقین دلایا کہ وزیراعظم سیلاب کی صورتحال سے ہر لمحہ بروقت آگاہی حاصل کر رہے ہیں اور متاثرہ شہریوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسی قدرتی آفات کے تدارک کے لیے نئے منصوبوں پر مشتمل ایک جامع روڈ میپ تیار کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔