لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کے متعدد ارکان نے خود ان سے رابطہ کیا اور انہیں ووٹ ڈالنے کی پیشکش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اراکین کا یہ رویہ دراصل اپنی ہی جماعت پر عدم اعتماد ہے۔
پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت غیر جمہوری اور غیر سیاسی رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے پیروکار ملک میں صرف فتنہ، فساد اور انتشار چاہتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ “پی ٹی آئی کے 10 سے 12 ارکان اگر مجھے ووٹ دینا چاہتے تھے تو یہ ان کی اپنی مرضی تھی۔ میں نے ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا، بلکہ وہ خود مجھ سے رابطہ کرتے رہے۔ میں نے انہیں منع بھی کیا کہ مجھے نہیں، اپنے امیدوار کو ووٹ دیں۔”
رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک پالیسی کے طور پر لعن طعن اور گالی گلوچ کے کلچر کو اپنایا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی وہ پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے اوئے توئے کے کلچر کو اپنی سیاسی حکمتِ عملی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کو بارہا مذاکرات اور بات چیت کی دعوت دی تاکہ قومی سطح پر یکجہتی کا پیغام دیا جا سکے، لیکن بانی پی ٹی آئی اور ان کے چند ساتھیوں نے سیاست کو آگے بڑھانے کے بجائے انکار کا راستہ اختیار کیا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے اراکین کو ہدایت دی کہ مخالف کو دیکھتے ہی چور کہو۔ ان کے مطابق یہ رویہ نہ تو سیاسی ہے اور نہ ہی جمہوری۔ اگر اپوزیشن سنجیدہ رویہ اپناتی ہے تو حکومت ہر سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے علیمہ خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی مذمت بھی کی اور کہا کہ “ہمارا اختلاف سیاسی ہے، ذاتی نہیں۔ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں، انہیں ان کا حق دیا جا رہا ہے۔ لیکن ہمارا شکوہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے سیاست میں بدتمیزی اور الزام تراشی کو بطور پالیسی رواج دیا۔”