اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک کے دارالحکومت میں پہلا اسمارٹ سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو اسمارٹ اسلام آباد پروگرام کا ایک اہم حصہ ہوگا۔ اس منصوبے کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے شہر کی روزمرہ زندگی کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے مطابق پائلٹ پروجیکٹ کی لاگت 708.385 ملین روپے رکھی گئی ہے، جن میں سے ابتدائی طور پر 250 ملین روپے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں کمانڈ سینٹر، جدید سافٹ ویئر اور تربیت یافتہ عملے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس نظام کے تحت اسلام آباد میں اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ، فضائی آلودگی کی نگرانی، پبلک ٹرانسپورٹ کا بہتر نظم اور ویسٹ مینجمنٹ جیسے اہم امور کو ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے شہر بھر میں جدید سینسرز اور ڈیوائسز نصب کیے جائیں گے، جو حقیقی وقت میں ڈیٹا کمانڈ سینٹر کو فراہم کریں گے۔
سرکاری دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ یہ کمانڈ سینٹر مختلف سرکاری محکموں کے افسران کو ایک ہی چھت تلے لائے گا تاکہ شہریوں کو بہتر سروسز فراہم کی جا سکیں۔
حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ہوگا اور شہری زندگی کو زیادہ شفاف، محفوظ اور آسان بنائے گا۔ حکام کو یقین ہے کہ یہ پراجیکٹ نہ صرف اسلام آباد بلکہ مستقبل میں پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کے لیے بھی ایک کامیاب ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔