ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں پاکستان کے آل راؤنڈر حسین طلعت ایک سنگین غلطی کے باعث شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ روایتی حریف بھارت کے خلاف اہم معرکے کے دوران انہوں نے ایک نازک موقع پر کیچ ڈراپ کر دیا، جسے شائقین کرکٹ نے پاکستان کی شکست کا بنیادی سبب قرار دیا۔
یہ واقعہ میچ کے نویں اوور کی تیسری گیند پر پیش آیا۔ اسپنر ابرار احمد نے شارٹ گیند کرائی جس پر بھارتی بلے باز سنجو سیمسن نے جارحانہ شاٹ کھیلا۔ گیند سیدھی ڈیپ مڈ وکٹ کی جانب گئی جہاں حسین طلعت فیلڈنگ کر رہے تھے۔ 29 سالہ آل راؤنڈر نے گیند کو قابو کرنے کے لیے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے مگر دباؤ کے باعث گیند ہاتھوں سے پھسل گئی اور زمین پر جا گری۔
اس لمحے نے میچ کا رخ یکسر بدل دیا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی مداحوں نے حسین طلعت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کئی صارفین نے کہا کہ اس ڈراپ کیچ نے پورے میچ کا نقشہ بدل دیا۔ ایک مداح نے لکھا کہ “حسین طلعت نے سب کچھ ضائع کر دیا”، جبکہ دوسرے نے غصے میں کہا کہ “یہی لمحہ تھا جس نے میچ ہمارے ہاتھ سے چھینا، حسین طلعت کی وجہ سے پاکستان ہار گیا۔”
شائقین نے الزام عائد کیا کہ اس ایک غلطی نے بولنگ یونٹ کی تمام محنت پر پانی پھیر دیا۔ کچھ مداحوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “حسین طلعت نے سب سے آسان کیچ سب سے اہم وقت پر چھوڑ دیا، ایسے کھیل کے ساتھ جیت کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟”
ایک اور کڑی تنقید میں کچھ مداحوں نے کہا کہ حسین طلعت نے صرف کیچ ہی نہیں بلکہ “کپ” بھی چھوڑ دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر یہ کیچ پکڑ لیا جاتا تو بھارت سخت دباؤ میں آ جاتا، لیکن یہ غلطی پاکستان کو مہنگی پڑی اور ایونٹ کا سب سے قیمتی ٹائٹل ہاتھ سے نکل گیا۔