وزارتِ خزانہ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات پیر کے روز اسلام آباد میں شروع ہوگئے، جن کی صدارت وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کررہے ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے یہ پیش رفت اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں تصدیق کی۔
آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ یہ اجلاس تکنیکی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور حکومت کے مالیاتی روڈ میپ کی نشاندہی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
اس سے قبل بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندہ مہیر بنچی نے بتایا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا مشن، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں جو آئی ایم ایف میں پاکستان کی مشن چیف ہیں، اسلام آباد پہنچ چکا ہے تاکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر مذاکرات کر سکے۔
گزشتہ ہفتے ایف بی آر نے ابتدائی تکنیکی سطح کے مذاکرات کے دوران آمدنی کے اعدادوشمار کے بارے میں آئی ایم ایف کی ٹیم کو آگاہ کیا تھا۔
ان مذاکرات کی قیادت ایف بی آر کے چیئرمین نے کی، جن کا محور محصولات کی وصولی میں پیش رفت اور ممکنہ کمی کو پورا کرنے کی حکمت عملی رہا۔ اجلاس کے دوران ایف بی آر کی ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو موجودہ مالی سال میں ٹیکس محصولات کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں محصولات کے اہداف کے حصول کی پیش رفت اور پہلی سہ ماہی میں ممکنہ ٹیکس کمی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفد نے یہ بھی اجاگر کیا کہ حالیہ شدید سیلاب نے ٹیکس وصولی کی کوششوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔