وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہے اور اب ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک نہ صرف اقتصادی محاذ پر بلکہ خارجی اور عسکری میدان میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
لندن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آپ ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور اپنی محنت اور خدمات سے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو سے تین سال پہلے ملکی معیشت شدید مشکلات اور عدم استحکام کا شکار تھی لیکن اب حالات بہتر ہو رہے ہیں اور ترقی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے اپنی گفتگو میں کرکٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے ایک کپتان اکیلا دس کھلاڑیوں کی محنت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا، ویسے ہی قومی ترقی بھی اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیم ورک ہی کامیابی کی اصل ضمانت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سفارتی، معاشی اور عسکری میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دشمن کو شکست فاش دی گئی ہے۔ ان کے مطابق وہ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ پیش کر کے آئے ہیں اور پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ان کی دعا ہے کہ وہاں جلد از جلد امن قائم ہو اور خونریزی ختم ہو۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اور کشمیر کے مقدمات کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صرف غزہ میں 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو عالمی برادری کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔
مزید برآں وزیر اعظم نے کہا کہ پاک-امریکا تعلقات میں بہتری آئی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات مثبت رہی۔ ان کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات مزید آگے بڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔
اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ غزہ کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے، جس کے مثبت نتائج کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تمام فورمز پر اپنی پوزیشن مؤثر انداز میں پیش کی ہے۔
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا اور اب جاری کوششیں پاکستانی معیشت کو مزید بہتر بنائیں گی۔