خیبر پختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ جو لوگ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرنے نہیں دے رہے، انہیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک منتخب وزیراعلیٰ ہیں اور کروڑوں عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پشاور ہائی کورٹ آمد کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں اور پوری کوشش کریں گے کہ ان سے ملاقات ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کا حق حاصل ہے اور کسی کو اس حق میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ کابینہ کی جو فہرست گردش کر رہی ہے وہ جعلی ہے، اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کابینہ کا حتمی فیصلہ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا تاکہ تمام فیصلے جماعتی اتفاق رائے سے ہوں۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پشاور ہائی کورٹ پہنچے جہاں انہوں نے مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست دائر کی۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز انور اور جسٹس نعیم انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ عدالت نے وزیراعلیٰ کو حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ انہیں کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب میں کہا کہ انہیں علم نہیں کہ کتنی ایف آئی آرز درج ہیں، ممکن ہے ان کے خلاف بھی کوئی ایف آئی آر ہو۔ اس پر عدالت نے متعلقہ اداروں کو تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔