اٹلی کے قریب تارکین وطن کی دو کشتیاں ڈوب گئیں جن میں پاکستانیوں سمیت ایک سو سے زائد افراد سوار تھے۔ امدادی ٹیموں نے حادثے کے بعد کئی گھنٹوں تک سرچ آپریشن جاری رکھا۔
خبر رساں ادارے کے مطابق پہلی کشتی میں پاکستان، اریٹیریا اور سومالیہ کے پچاسی باشندے سوار تھے۔ اس حادثے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ گیارہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ باقی ماندہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دوسری کشتی میں پینتیس افراد سوار تھے۔ حکام کے مطابق ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ چوبیس افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ تیز لہروں اور موسم کی خرابی کے باعث تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو ماہ قبل بھی جنوبی اٹلی کے جزیرے لیمپیڈوسا کے قریب دو کشتیوں کے حادثات میں کئی تارکین وطن ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ساٹھ افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک بتیس ہزار سے زائد تارکین وطن بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران ہی مرکزی بحیرہ روم کے راستے میں نو سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس نے اس روٹ کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں سے ایک بنا دیا ہے۔