وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود پیش نہ ہونے پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ کارروائی اس وقت کی جب متعدد مواقع ملنے کے باوجود علیمہ خان عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔ علیمہ خان ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے باوجود پیش نہ ہوئیں، جس پر عدالت نے ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کا فیصلہ سنایا۔
عدالت نے علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کا بھی حکم دیا اور اس سلسلے میں نادرا اور امیگریشن حکام کو ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کی ہدایت جاری کی تاکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے۔
مزید برآں عدالت نے علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کی جائیداد بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملزمہ مختلف جگہوں پر موجود ہوتی ہیں لیکن عدالتی کارروائی میں پیش نہیں ہوتیں، جو عدالتی عمل سے گریز کے مترادف ہے۔
سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ عدالت میں پیش ہوئے، تاہم علیمہ خان کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں موجود نہیں تھا۔ دوسری جانب مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ استغاثہ کے گواہان بھی مالِ مقدمہ سمیت عدالت میں موجود تھے۔
بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی تاکہ آئندہ کارروائی میں فریقین کو پیش ہونے کا موقع دیا جا سکے۔