تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے لایا جانے والا ترمیمی بل ابھی کسی کے سامنے واضح خدوخال کے ساتھ پیش ہی نہیں کیا گیا، اس لیے اس پر مؤقف دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی ایوارڈ (این ایف سی) جیسے حساس معاملے کو ماضی میں کبھی نہیں چھیڑا گیا، اور اس بارے میں صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ نے بھی ترمیم پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اسمبلی کو فارم 47 کے ذریعے وجود میں آیا ہوا کہا جا رہا ہے، وہ کسی بھی قسم کی آئینی ترمیم کرنے کی اہل نہیں ہوسکتی۔ ان کے مطابق بلاول بھٹو کی ٹویٹ کے ذریعے سامنے آنے والی تفصیلات انتہائی تشویش ناک ہیں کیونکہ ان کے مطابق پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا مزید کہنا تھا کہ اس مجوزہ ترمیم کے ذریعے آزاد عدلیہ کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ اس ترمیم کی ہر فورم پر بھرپور مخالفت کریں گے۔
آئینی ترمیم پر ردعمل دیتے ہوئے سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس تمام صورتحال کا علم بلاول بھٹو کے بیان کے ذریعے ہوا۔ ان کے مطابق جب آئینی بینچز تشکیل دیے گئے تو یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ اس سے انصاف کی فراہمی بہتر ہوگی، لیکن اب صورتحال اس کے برعکس نظر آ رہی ہے، اور یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ عدلیہ کے ساتھ آخر کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔