سینیٹر فیصل واڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ 27ویں ترمیم منظور ہوچکی ہے اور اب اگلے مرحلے کے طور پر 28ویں ترمیم کی تیاری شروع کرنی چاہیے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کی منظوری سے نہ صرف جمہوری عمل مزید مستحکم ہوگا بلکہ ملکی دفاع کے حوالے سے بھی مضبوط بنیادیں قائم ہوں گی۔
گفتگو کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا مولانا فضل الرحمٰن کو اس ترمیم پر راضی کیا جاسکے گا؟ اس پر فیصل واڈا نے جواب دیا کہ مولانا ان کے بزرگ ہیں اور وہ ہمیشہ ان سے سیاست کی باریکیاں سیکھتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے اس حوالے سے نہایت مؤثر اور قابلِ تعریف اقدام کیا ہے اور جمہوری روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے بہترین کام انجام دیا ہے۔
ایک اور سوال خیبر پختونخوا کے نام کی تبدیلی سے متعلق مجوزہ ترمیم کے بارے میں کیا گیا، جس پر فیصل واڈا نے کہا کہ ایمل ولی ان کے دوست ہیں اور وہ جو بھی کہیں گے وہ اسی کے مطابق عمل کرنے کو تیار ہیں۔ اسی دوران ایک اور صحافی کے سوال پر انہوں نے مشورہ دیا کہ اب 27ویں ترمیم میں کوئی دم باقی نہیں رہا، اس لیے 28ویں ترمیم کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔