پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے خلاف جاری ثالثی کارروائی سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے 8 اگست 2025 کو جاری کیے گئے عدالتی ایوارڈ کی بعض تشریحات پر اہم وضاحت فراہم کی ہے۔
دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان نے اس فیصلے کے ساتھ جاری کیے گئے عدالتی طریقہ کار سے متعلق احکامات کا بھی نوٹس لیا ہے، جن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ عدالت کارروائی کو مرحلہ وار آگے بڑھائے گی اور معاہدے کے آرٹیکل 9 اور ضمیمہ ایف کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے جاری عمل کو بھی مدنظر رکھے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی بھارت کی درخواست پر شروع کی گئی تھی اور اس کا اگلا اجلاس 17 سے 21 نومبر 2025 تک ویانا میں منعقد ہوگا۔ تاہم بھارت نے اس عمل کی پیروی روک دی ہے، اس کے باوجود پاکستان نیک نیتی سے اس میں حصہ لے رہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نیوٹرل ایکسپرٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی غیر موجودگی کارروائی کے تسلسل میں رکاوٹ نہیں بنے گی، اور یہ عمل طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہے گا۔