وانا کے کیڈٹ کالج پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا اور حملے میں ملوث تمام خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ حکام نے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران کسی بھی طالبعلم یا استاد کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے میں خودکش بمبار سمیت کل 4 خوارج فائرنگ اور آپریشن کے تبادلۂ آتش میں مارے گئے جبکہ کالج عمارت کو بارودی سرنگوں کے خدشے کے پیش نظر کلیئر کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی اطلاع یہ بھی ہے کہ تمام طلبا اور اساتذہ کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کر لیا گیا ہے اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ سیکیورٹی حکام نے کہا کہ آخری خوارج تک آپریشن جاری رہے گا۔
سیکورٹی کے مطابق 10 نومبر کو کاؤنٹر ان پٹ میں افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ کے سامنے بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی تھی، جس کے نتیجے میں گیٹ منہدم ہوا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ فوجی جوانوں نے بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کر کے دو خوارج کو اسی وقت ہلاک کیا تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اس حملے کے پیچھے افغانستان اور بھارت کے مابین روابط کی نشاندہی کی اور کہا کہ پراکسی وار کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملوں کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ثبوت عالمی سطح پر پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے تک مربوط کارروائیاں جاری رہیں گی۔
وزیر داخلہ نے بھی کہا کہ وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ناکام بنایا گیا اور دہشتگردوں کے افغانستان سے رابطوں کے شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین سے دہشتگردی کی معاونت بند کرے؛ ورنہ قانون کے مطابق ذمہ داروں کا تعاقب کیا جائے گا۔