سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی فیصلوں کو اسی انداز میں جاری رکھا تو دوسری جانب سے گورنر راج نافذ کرنے کا ارادہ بھی موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر حالات کو جان بوجھ کر اشتعال کی طرف لے جایا گیا تو نظام ایسے رویوں کی ہرگز اجازت نہیں دے گا، اور اگر گورنر راج لگا تو وہ چند ماہ کے لیے نہیں بلکہ مستقل نوعیت کا بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج نافذ ہونے کی صورت میں کسی بھی سیاسی جماعت کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، جبکہ اس سلسلے میں مربوط حکمت عملی پہلے سے تیار رکھی گئی ہے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے اب سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، اور جو لوگ کروڑوں عوام کی نمائندگی کے دعوے کرتے ہیں وہ چند سو افراد کو بھی اکٹھا کرنے میں ناکام ہیں۔
فیصل واوڈا کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک افسر کی شہادت کے بعد اہلخانہ سے تعزیت کے بجائے امریکی حکام سے ملاقاتوں میں مصروف رہے، جبکہ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف نعرے لگاتے رہتے ہیں، جو ان کے بیانیے سے تضاد ظاہر کرتا ہے۔