صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ارسال کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر مزید پانچ سال کے لیے تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ملک کی فوجی قیادت نئے ڈھانچے کے ساتھ ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
ایوانِ صدر کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی گئی سمری میں سفارش کی گئی تھی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو اس وقت پاکستان کے آرمی چیف کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں، انہیں چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا اضافی منصب بھی سونپا جائے، جس کے بعد یہ تعیناتی باقاعدہ طور پر پانچ سال کی مدت کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔ یہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی فوجی سربراہ کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔
صدر مملکت نے اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف (جو اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے) اور چیف آف ائیر اسٹاف، دونوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی آئندہ ذمہ داریوں میں کامیابی کی دعا دی۔
اسی سلسلے میں صدرِ مملکت نے چیف آف ائیر اسٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مدتِ ملازمت میں مزید دو سال کی توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے۔ یہ توسیع ان کی موجودہ پانچ سالہ مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد 19 مارچ 2026 سے نافذ ہوگی، جس کے بعد وہ اپنی خدمات مزید دو برس جاری رکھیں گے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کی سمری پر دستخط کرکے اسے منظوری کے لیے صدرِ مملکت کو ارسال کیا تھا۔ وزیراعظم کی سمری میں واضح کیا گیا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں عہدے بیک وقت سنبھالیں گے اور ان کی مدتِ تعیناتی پانچ سال مقرر کی جائے گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ملک کی تاریخ کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بن گئے ہیں، جو تینوں مسلح افواج کے درمیان رابطہ، ہم آہنگی اور مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کو مربوط بنانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔