دارالحکومت کراچی سمیت بلوچستان کے متعدد علاقوں میں دوپہر کے وقت زلزلے کے واضح جھٹکے محسوس کیے گئے، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق، دوپہر 12 بج کر 51 منٹ پر آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.2 اور گہرائی 12 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
معلومات کے مطابق، کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ، لیاری، صدر، کلفٹن، پی ای سی ایچ ایس، ڈی ایچ اے، سائٹ ایریا، ٹیپو سلطان روڈ، پہلوان گوٹھ اور بحریہ ٹاؤن جیسے پر رشک اور گنجان آباد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے خاصے شدید تھے، جس کے نتیجے میں بہت سے شہری گھبرا کر اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر کھلی جگہوں پر آ گئے۔
لیاری کے علاقے نیا آباد میں واقع ایک رہائشی عمارت کے مکین سہمے ہوئے باہر نکل آئے، جس کے بعد پولیس اور ریسکیو 1122 کی عملے کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ ریسکیو حکام نے ابتدائی جائزے کے بعد بتایا کہ عمارت کو زلزلے سے کوئی ساختی نقصان نہیں پہنچا ہے، تاہم ٹیمیں احتیاطی تدابیر کے طور پر عمارت کا تفصیلی معائنہ کر رہی ہیں۔
زلزلے کا مرکز کراچی سے تقریباً 87 کلومیٹر جنوب مغرب میں بلوچستان کے ساحلی علاقے سومیانی کے قریب بتایا گیا ہے۔ بلوچستان کے اضلاع وندر، حب، گڈانی اور سومیانی میں بھی زلزلے کی لہر واضح طور پر محسوس کی گئی۔ اس سے قبل سبی اور اس کے گردونواح میں بھی ایک ہلکا زلزلہ آیا تھا، جس کی شدت 3.2 ریکارڈ کی گئی تھی۔
خوش قسمتی سے، زلزلے کے نتیجے میں اب تک کسی بھی قسم کے جانی نقصان یا بڑے مالیاتی تباہی کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ حکام نے عوام سے پر سکون رہنے اور بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی ہے۔